ملک میں معطل ہونیوالا انتخابی عملے کی تربیت کا عمل دوبارہ شروع
ملک میں معطل ہونیوالا انتخابی عملے کی تربیت کا عمل دوبارہ شروع
پاکستان میں، انتخابی عملے کی تربیت کا عمل 2023 میں عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا، جب لاہور ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر فیصلہ دیا کہ پنجاب کی بیوروکریسی سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی انتخابات میں غیر منصفانہ ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے ملک بھر میں تمام انتخابی تربیتی سرگرمیاں روک دی تھیں۔
تاہم، 16 دسمبر 2023 کو، سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد، ECP نے اعلان کیا کہ انتخابی عملے کی تربیت کا عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
ECP نے کہا ہے کہ وہ 2024 کے عام انتخابات کے لیے انتخابی عملے کو تیار کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ تربیتی پروگرام میں انتخابی عملے کو انتخابات کے قوانین اور ضوابط، انتخابی عملہ کی ذمہ داریوں، اور انتخابات کے انعقاد کے عمل کے بارے میں تربیت دی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کا ماننا ہے کہ انتخابی عملے کی تربیت کا عمل کامیاب ہونے سے 2024 کے عام انتخابات کے انعقاد میں مدد ملے گی۔
انتخابی عملے کی تربیت کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد، سیاسی جماعتوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انتخابات میں شفافیت اور اعتماد کو بڑھانے میں مدد کرے گا۔
تاہم، کچھ سیاسی جماعتیں اس فیصلے سے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انتخابات میں غیر منصفانہ ہوگا۔
مجموعی طور پر، انتخابی عملے کی تربیت کے دوبارہ شروع ہونے سے 2024 کے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
